تیرے آنے کی بہت دھوم مچی ہے بارش
تیرے آنے کی بہت دھوم مچی ہے بارش
کہیں الجھن کہیں لوگوں میں خوشی ہے بارش
اس کے بن زخم ہر اک بوند سے پایا میں نے
جیسے پانی نہیں پتھر کی ہوئی ہے بارش
میرے محبوب کو محبوب یہی موسم ہے
اس لئے بھی مجھے محبوب رہی ہے بارش
ہے مری جان مزاج آپ کا موسم کی طرح
کبھی سردی کبھی گرمی تو کبھی ہے بارش
ان کو حالات نے مجبور کیا کہنے پر
کچے گھر والے جو کہتے ہیں بری ہے بارش
کاش وہ تیری طرح لوٹ کے آ جائے کبھی
جس طرح لوٹ کے تو آنے لگی ہے بارش
تیرے آنے سے ہی پہچان ملی ہے اس کو
پھر سے لگنے لگا بستی میں ندی ہے بارش
یوں کیا ہم کو بھی حالات کے طوفاں نے جدا
جس طرح تجھ کو ہوا لے کے اڑی ہے بارش
گمشدہ بچے کے ملنے کی خوشی کی مانند
اب کسانوں کو خبر تیری ملی ہے بارش
تیرے آنے سے ہے امکان کہ دھل جائے غبار
کئی رشتوں پہ یہاں دھول جمی ہے بارش
اس کی یادوں کی گھٹا چھائی تو گوہرؔ برسے
یعنی اشعار کی پھر مجھ پہ ہوئی ہے بارش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.