پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
دست گل پھیلا ہوا ہے مرے آنچل کی طرح
کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک
جسم برسات میں بھیگے ہوئے جنگل کی طرح
پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے
پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح
اونچی آواز میں تو اس نے کبھی بات نہ کی
خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح
روز اس جسم کے آسیب زدہ مندر میں
دل سر شام سلگ اٹھتا ہے صندل کی طرح
مل کے اس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں
بول اٹھتی ہے نظر پاؤں کی چھاگل کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.