Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

پروین شاکر

پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

    دست گل پھیلا ہوا ہے مرے آنچل کی طرح

    کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک

    جسم برسات میں بھیگے ہوئے جنگل کی طرح

    پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

    پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

    اونچی آواز میں تو اس نے کبھی بات نہ کی

    خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح

    روز اس جسم کے آسیب زدہ مندر میں

    دل سر شام سلگ اٹھتا ہے صندل کی طرح

    مل کے اس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں

    بول اٹھتی ہے نظر پاؤں کی چھاگل کی طرح

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے