کبھی عروج کی ہے اور کبھی زوال کی ہے
کبھی عروج کی ہے اور کبھی زوال کی ہے
یہ داستان محبت بھی کیا کمال کی ہے
غم حیات سے دل آشنا ہوا کیسے
ہمیں جو فکر ہے تو بس اسی سوال کی ہے
ہمیں تو گزرے ہوئے ہو چکی ہیں اب صدیاں
تمہیں خبر جو ملی کس کے انتقال کی ہے
وہ جس خیال نے پھولوں سے خوشبوئیں پائیں
تمہارے جسم کی خوشبو اسی خیال کی ہے
ذرا جو بارشیں برسیں تو رقص کرنے لگے
یہ پیڑ پودوں میں مستی اسی دھمال کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.