Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی عروج کی ہے اور کبھی زوال کی ہے

سہیل نقش

کبھی عروج کی ہے اور کبھی زوال کی ہے

سہیل نقش

MORE BYسہیل نقش

    کبھی عروج کی ہے اور کبھی زوال کی ہے

    یہ داستان محبت بھی کیا کمال کی ہے

    غم حیات سے دل آشنا ہوا کیسے

    ہمیں جو فکر ہے تو بس اسی سوال کی ہے

    ہمیں تو گزرے ہوئے ہو چکی ہیں اب صدیاں

    تمہیں خبر جو ملی کس کے انتقال کی ہے

    وہ جس خیال نے پھولوں سے خوشبوئیں پائیں

    تمہارے جسم کی خوشبو اسی خیال کی ہے

    ذرا جو بارشیں برسیں تو رقص کرنے لگے

    یہ پیڑ پودوں میں مستی اسی دھمال کی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے