جاڑوں میں سلگتی ہوئی ہر رات کا موسم
جاڑوں میں سلگتی ہوئی ہر رات کا موسم
ہے خود سے تکلم کا سوالات کا موسم
ہر لمحے کی تقدیر ہوا کرتی ہے یارو
سوچو تو ہوا کرتا ہے ہر بات کا موسم
چھاؤں بھی تری دھوپ بھی جو فیصلہ دے دے
ہے اب بھی تری زد میں مری ذات کا موسم
بچوں کی طرح ماں کو بھی چلنا پڑا آخر
آیا ہے شکاری کے لیے گھات کا موسم
لفظوں کے شجر سوچ کے ہر پھول کو ترسیں
اور آگے گزر جائے خیالات کا موسم
ڈوبا ہوا گھر دیکھ کے میں سوچ رہا ہوں
جذبات کا موسم ہے کہ برسات کا موسم
ہو دیدۂ بینا تو نظر آئے تمہیں بھی
اشعار کی بستی میں طلسمات کا موسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.