تیری خوشبو سے جو خوشبو سی اڑا کرتی ہے
تیری خوشبو سے جو خوشبو سی اڑا کرتی ہے
ذکر صدیوں سے اسی بو کا صبا کرتی ہے
تیرے کوچے کی ہوا جب بھی ملا کرتی ہے
دل کی آوارہ مزاجی کا گلہ کرتی ہے
رقص کرتے ہیں ترے پہلو میں سب مسلک عشق
صبح قامت جو تری بھینٹ چڑھا کرتی ہے
تیرا سر سجدے میں ہے جب سے مرے سینے پر
بندگی میرے وسیلے سے دعا کرتی ہے
تیرے چہرے کی تلاوت ہے اجالوں کا علاج
چاندنی دھو کے ترے پاؤں پیا کرتی ہے
مسکراہٹ کو سکھاتی ہے سلیقے فاطرؔ
اک کلی جو ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.