Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جما دل پر مرے نقش نگار آہستہ آہستہ

شاہ محسن داناپوری

جما دل پر مرے نقش نگار آہستہ آہستہ

شاہ محسن داناپوری

MORE BYشاہ محسن داناپوری

    جما دل پر مرے نقش نگار آہستہ آہستہ

    کھنچی آئینہ میں تصویر یار آہستہ آہستہ

    تمہارے رہگزر میں فرش ہیں عشاق کی آنکھیں

    قدم رکھیے زمیں پر اے نگار آہستہ آہستہ

    قدم اب جم نہیں سکتے چمن میں اے خزاں تیرے

    وہ دیکھ آ پہونچی گلشن میں بہار آہستہ آہستہ

    مجھے یہ خوف ہے اے جاں کہیں محشر نہ برپا ہو

    قدم رکھیے زمیں پر اے نگار آہستہ آہستہ

    اثر جذب محبت نے دکھایا بعد مرنے کے

    چلے آئے ہیں وہ سوئے مزار آہستہ آہستہ

    نمو ہے سبزۂ خط کا شگفتہ ہیں گل عارض

    ترقی کر رہی ہے یہ بہار آہستہ آہستہ

    گزر جاتے ہیں ایام جوانی اس طرح محسنؔ

    چمن سے جیسے جاتی ہے بہار آہستہ آہستہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے