جب سے تیرے خیال آئے ہیں
جب سے تیرے خیال آئے ہیں
دل میں کتنے سوال آئے ہیں
اس سے پہلے کہ خواہشیں چبھتیں
دل سے ساری نکال آئے ہیں
نیند آئی تھی ہم سے ملنے کو
پھر بہانے سے ٹال آئے ہیں
جس نے جتنے عروج دیکھے ہیں
اس پہ اتنے زوال آئے ہیں
اک سمندر کو دل دکھایا ہے
اس کو حیرت میں ڈال آئے ہیں
جستجو میں سکوں کی نکلے تھے
لے کے واپس ملال آئے ہیں
خود کو دریا سمجھنے والے تھے
ان کو قطرے میں ڈھال آئے ہیں
اک انا تھی کہ راکھ ہو نہ سکی
ورنہ ہم بھی نڈھال آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.