آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دلہن کی خوشبو
پیرہن میرا مگر اس کے بدن کی خوشبو
اس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو
اڑ کے پہنچے گی جہاں تک مرے فن کی خوشبو
ساتھ جائے گی کسی رشک چمن کی خوشبو
قامت شعر کی زیبائی کا عالم مت پوچھ
مہرباں جب سے ہے اس سرو بدن کی خوشبو
موجۂ گل کو ابھی اذن تکلم نہ ملے
پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو
عارض گل کو چھوا تھا کہ دھنک سی بکھری
کس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو
ذکر شاید کسی خورشید بدن کا بھی کرے
کو بہ کو پھیلی ہوئی میرے گہن کی خوشبو
کس نے زنجیر کیا ہے رم آہو چشماں
نکہت جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو
اس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے
صحن زنداں میں انہیں دشت وطن کی خوشبو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.