ہم جو محفل میں آئے بیٹھے ہیں
ہم جو محفل میں آئے بیٹھے ہیں
لوگ سب خار کھائے بیٹھے ہیں
سانس بھی ڈر کے لیجیے صاحب
لوگ نظریں جمائے بیٹھے ہیں
خواب اپنے نہ نشر کیجئے گا
لوگ پتھر اٹھائے بیٹھے ہیں
جس کو سمجھو وہی نہیں اپنا
لوگ رشتے بھلائے بیٹھے ہیں
داد و تحسین کی نہ ضد کیجے
لوگ سب دل جلائے بیٹھے ہیں
آپ کا نام کیا لیا ہم نے
لوگ سب تلملائے بیٹھے ہیں
تیری محفل میں ہو یقیں کس پر
لوگ سب آزمائے بیٹھے ہیں
رنج غصہ حسد جلن گالی
لوگ کیا کیا چھپائے بیٹھے ہیں
خوش گمانی کی حد ہے یہ ابرکؔ
لوگ دل میں سمائے بیٹھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.