باہر آتے ڈرتے ہیں اپنے اپنے افسانے سے
باہر آتے ڈرتے ہیں اپنے اپنے افسانے سے
کل تک جو دیوانے تھے اب لگتے ہیں دیوانے سے
سب کے پاس کئی ناصح ہیں اور سبھی سمجھاتے ہیں
اکثر لوگ بگڑ جاتے ہیں بہتوں کے سمجھانے سے
جس کی پیاس کو کم پڑتی ہو صحرا کی پہنائی بھی
اس کی پیاس نہ ناپی جائے ساقی کے پیمانے سے
کیوں اتنے مغرور ہیں راہیؔ کیوں اتنا اتراتے ہیں
گنگا تٹ ویران نہ ہوگا اک ان کے اٹھ جانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.