Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

باہر آتے ڈرتے ہیں اپنے اپنے افسانے سے

راہی معصوم رضا

باہر آتے ڈرتے ہیں اپنے اپنے افسانے سے

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    باہر آتے ڈرتے ہیں اپنے اپنے افسانے سے

    کل تک جو دیوانے تھے اب لگتے ہیں دیوانے سے

    سب کے پاس کئی ناصح ہیں اور سبھی سمجھاتے ہیں

    اکثر لوگ بگڑ جاتے ہیں بہتوں کے سمجھانے سے

    جس کی پیاس کو کم پڑتی ہو صحرا کی پہنائی بھی

    اس کی پیاس نہ ناپی جائے ساقی کے پیمانے سے

    کیوں اتنے مغرور ہیں راہیؔ کیوں اتنا اتراتے ہیں

    گنگا تٹ ویران نہ ہوگا اک ان کے اٹھ جانے سے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے