Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

امیدیں تھے لگائے ہوئے شہ سوار سے

عبداللہ ندیم

امیدیں تھے لگائے ہوئے شہ سوار سے

عبداللہ ندیم

MORE BYعبداللہ ندیم

    امیدیں تھے لگائے ہوئے شہ سوار سے

    مطلع مگر اٹا رہا گرد و غبار سے

    تھمنے لگی تھی نبض زمان و مکان بھی

    اٹھا تھا ایسا نور ہی تاریک غار سے

    پرواز کی ہوس میں پروں کو جلا دیا

    آگے بھی اک فضا ہے شب کم عیار سے

    ہم نے سکوت شب میں سنے ہیں وہ معجزے

    جو حرف بن نہ پائے زبان شرار سے

    جو بھی ملا ملا تری آواز اوڑھ کر

    سب آشنا ملے ترے لطف شعار سے

    اک قطرۂ حقیر جو دریا ہوا ہے آج

    یہ مرتبہ ملا اسے ترک وقار سے

    وہ آشنا بھی کب ہوا اپنے جمال سے

    جب دل گزر گیا نفس مستعار سے

    اپنے نفس کے شعلے سے پیدا کیا چمن

    کچھ یوں رہائی پائی ہے موج بہار سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے