امیدیں تھے لگائے ہوئے شہ سوار سے
امیدیں تھے لگائے ہوئے شہ سوار سے
مطلع مگر اٹا رہا گرد و غبار سے
تھمنے لگی تھی نبض زمان و مکان بھی
اٹھا تھا ایسا نور ہی تاریک غار سے
پرواز کی ہوس میں پروں کو جلا دیا
آگے بھی اک فضا ہے شب کم عیار سے
ہم نے سکوت شب میں سنے ہیں وہ معجزے
جو حرف بن نہ پائے زبان شرار سے
جو بھی ملا ملا تری آواز اوڑھ کر
سب آشنا ملے ترے لطف شعار سے
اک قطرۂ حقیر جو دریا ہوا ہے آج
یہ مرتبہ ملا اسے ترک وقار سے
وہ آشنا بھی کب ہوا اپنے جمال سے
جب دل گزر گیا نفس مستعار سے
اپنے نفس کے شعلے سے پیدا کیا چمن
کچھ یوں رہائی پائی ہے موج بہار سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.