مرے ترانے مرے ساز کا تعاقب ہے
مرے ترانے مرے ساز کا تعاقب ہے
یہ نسل نو کی ہی آواز کا تعاقب ہے
پتہ نہیں تھا وہ آواز میری اپنی تھی
اور عرصے سے اسی آواز کا تعاقب ہے
فرشتے بھی مری تخلیق کے مخالف تھے
ہمیشہ سے مرے آغاز کا تعاقب ہے
مرے جنون مسلسل کی فکر مت کرنا
ابھی تری نگہ ناز کا تعاقب ہے
ابھی تو محضر ہو کی بھی جستجو نہ ہوئی
ابھی سے دیدۂ غماز کا تعاقب ہے
جو پاک دامن و عصیاں سرشت ہیں برہم
یہ حسن تفرقہ پرداز کا تعاقب ہے
ہے گفتگوئے من و تو کا اک تجسس بھی
کہیں اشارۂ ہم راز کا تعاقب ہے
پروں کو توڑتے جاتے ہیں جو سبھی طائر
اسی میں حسرت پرواز کا تعاقب ہے
نہ ہو سکی ہے کسی سے بھی ناز برداری
سنا ہے انجمن ناز کا تعاقب ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.