کوئی تاجور نہیں ہے کوئی مقتدر نہیں ہے
کوئی تاجور نہیں ہے کوئی مقتدر نہیں ہے
رہ عشق ہے ہی ایسی کوئی با اثر نہیں ہے
بھلے لاکھ منزلیں ہوں کہاں فاصلے کٹیں گے
مجھے جب تلک میسر تری رہگزر نہیں ہے
دل مضطرب پہ حاوی وہ ازل کے دن کی رونق
ترے اس جہان غم کی ہمیں کچھ خبر نہیں ہے
صف دوستاں میں آنا تو انائیں بھول جانا
یہ سفر ہے عاجزی کا سو اگر مگر نہیں ہے
میں بھٹک گیا تو جامیؔ مری واپسی نہ ہوگی
ترے در سوا جہاں میں مرا کوئی گھر نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.