عاشقی کا حال صاحب اور بہتر ہو گیا
عاشقی کا حال صاحب اور بہتر ہو گیا
جام آنکھوں سے پیا تو آب کوثر ہو گیا
بارش نظر کرم ان کی نہ مدت سے ہوئی
پیاس کی شدت سے آخر دل ہی بنجر ہو گیا
مرہم زخم جگر بن کر وہ آئے تھے مگر
درد کا تیور کڑا کچھ اور بڑھ کر ہو گیا
پھر گئی اس کے تعلق سے عقیدت کی نگاہ
دیوتا میری نظر میں تھا وہ پتھر ہو گیا
ایک بادل آسماں کی ٹھوکریں کھاتا رہا
جب زمیں کی گود میں آیا سمندر ہو گیا
پھول سی نرمی رہی لہجے میں تب تک برقرار
قتل رشتے کا ہوا جب لفظ خنجر ہو گیا
پتھروں کے بیچ روبیؔ ہے کٹھن چلنا مگر
جو چلا اس راہ پر وہ شخص رہبر ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.