یہاں جو روشنی پھیلا رہا ہے
یہاں جو روشنی پھیلا رہا ہے
وہ جلنے کی سزا کیوں پا رہا ہے
پہن کر ریشم و اطلس کے کپڑے
ہمیں وہ سادگی سکھلا رہا ہے
وہ تارا سو گیا مجھ کو جگا کر
جو کہتا تھا کہ سورج آ رہا ہے
بہت اونچی ہے ہمسائے کی بلڈنگ
مرے گھر پر اندھیرا چھا رہا ہے
جسے تعبیر میں سمجھا تھا قاسمؔ
خیال و خواب ہوتا جا رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.