عشق میں میری طرح زحمت اٹھانی چاہیے
عشق میں میری طرح زحمت اٹھانی چاہیے
کم سے کم تم کو بھی میری یاد آنی چاہیے
چند لمحوں میں تمہیں سوچا تو غزلیں ہو گئیں
اور کیا تم کو محبت کی نشانی چاہیے
جن کے شجرے تک پولس تھانے میں رکھے ہیں جناب
ایسے لوگوں کو بھی رشتہ خاندانی چاہیے
اس اندھیری رات میں سورج کے کیوں ہیں منتظر
ان چراغوں کو بھی کچھ ہمت دکھانی چاہیے
مسکرانا اس لئے بھی فرض ہے مجھ پر ثمرؔ
اہل دنیا کو مری آنکھوں میں پانی چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.