بجھا بھی دو دل پرسوز و چشم تر کے چراغ
بجھا بھی دو دل پرسوز و چشم تر کے چراغ
یہ کس کے واسطے روشن رکھے ہیں گھر کے چراغ
مسافروں کو تو منزل پہ یاد بھی نہ رہا
نڈھال تھے سفر شب سے رہگزر کے چراغ
ڈبو ہی دے نہ کہیں چشم اشکبار ہمیں
نظر سے چھپنے لگے اب تو بام و در کے چراغ
دھواں دھواں ہیں محبت میں چشم و دل جیسے
مرے ہی سینے میں جلتے ہوں شہر بھر کے چراغ
بجھا جو شعلۂ آواز تو ہوا محسوس
ہمارے خون سے روشن تھے نغمہ گر کے چراغ
بہت اداس ہے توصیفؔ حسن لالہ و گل
جلائے جس طرح کوئی لہو سے بھر کے چراغ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.