ریت گھڑی کو بھرتی ہے مٹھی دیوانوں کی
ریت گھڑی کو بھرتی ہے مٹھی دیوانوں کی
اک لمحے پر لگ جاتی ہے چھاپ زمانوں کی
جسم اگرچہ ڈھانپ بھی لو تو عکس برہنہ ہے
کس نے کہا تھا سیر کرو آئینہ خانوں کی
لہریں لیتے سرو سنائیں اک جھرنے کے گیت
راہی دور بہا لے جائے راہ گمانوں کی
اپنی زمیں کو کب تک ڈھونڈے میرے قلم کا ہل
اتنے میں تو پک جاتی ہے فصل کسانوں کی
کورے کاغذ الٹ رہا ہے کون اداسی میں
گہرے بادل ٹاپ رہے ہیں چھتیں مکانوں کی
اب کے ایسا کھیل رچایا ہجر کے موسم نے
آتی ہے آباد گھروں سے بو ویرانوں کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.