Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خواب جیسا حسن تھا یا آئنہ رکھا ہوا

مبشر سلیم بشر

خواب جیسا حسن تھا یا آئنہ رکھا ہوا

مبشر سلیم بشر

MORE BYمبشر سلیم بشر

    خواب جیسا حسن تھا یا آئنہ رکھا ہوا

    عشق نے تھا ہر تمنا کو ہرا رکھا ہوا

    میں نے تو سارے دریچوں میں دیے روشن کئے

    اب ہوا کے ہاتھ میں ہے فیصلہ رکھا ہوا

    کس نے دریا کے بہاؤ سے نہ پوچھا راستہ

    کس نے لہروں کی جبیں پر تھا گھڑا رکھا ہوا

    مجھ جنوں نسبت کو بھی وحشت میسر آ گئی

    خواہش دیوار نے تھا مبتلا رکھا ہوا

    زندگی سے اتنی امیدیں نہ باندھو تم کہ یہ

    بہتے پانی پر ہے کوئی بلبلا رکھا ہوا

    مدتوں کے بعد اس نے بھی پکارا ہے مجھے

    اب ہمارے درمیاں ہے فاصلہ رکھا ہوا

    ہر پریشاں سوچ تھی میرے یقینوں کی بشرؔ

    ہر گماں کے شہر میں تھا وسوسہ رکھا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے