خواب جیسا حسن تھا یا آئنہ رکھا ہوا
خواب جیسا حسن تھا یا آئنہ رکھا ہوا
عشق نے تھا ہر تمنا کو ہرا رکھا ہوا
میں نے تو سارے دریچوں میں دیے روشن کئے
اب ہوا کے ہاتھ میں ہے فیصلہ رکھا ہوا
کس نے دریا کے بہاؤ سے نہ پوچھا راستہ
کس نے لہروں کی جبیں پر تھا گھڑا رکھا ہوا
مجھ جنوں نسبت کو بھی وحشت میسر آ گئی
خواہش دیوار نے تھا مبتلا رکھا ہوا
زندگی سے اتنی امیدیں نہ باندھو تم کہ یہ
بہتے پانی پر ہے کوئی بلبلا رکھا ہوا
مدتوں کے بعد اس نے بھی پکارا ہے مجھے
اب ہمارے درمیاں ہے فاصلہ رکھا ہوا
ہر پریشاں سوچ تھی میرے یقینوں کی بشرؔ
ہر گماں کے شہر میں تھا وسوسہ رکھا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.