کبھی ہنگامۂ جاں سے نکل کر خود سے ملنا تم (ردیف .. ے)
کبھی ہنگامۂ جاں سے نکل کر خود سے ملنا تم
وہاں جو شہر بستا ہے سدا بیدار رہتا ہے
وہاں جذبے کسی عنوان کی صورت نہیں ڈھلتے
وہاں خاموش لمحوں میں عجب اسرار رہتا ہے
وہاں رشتے بنا لفظوں کے اپنی سانس لیتے ہیں
وہاں پہچان کا سورج پس کہسار رہتا ہے
عجب جادو ہے اس بستی کے سناٹے کی لوری میں
جو اس عالم میں سو جائے وہ پھر سرشار رہتا ہے
وہاں دستک کی حسرت ہے نہ آوازوں کا میلہ ہے
وہاں بس خامشی کا اک عجب سنسار رہتا ہے
وہاں سایہ نہیں ملتا کسی گزرے ہوئے پل کا
وہاں تو اک نیا عالم پس دیوار رہتا ہے
وہاں حرف و بیاں کے سب حوالے ٹوٹ جاتے ہیں
وہاں خاموش آنکھوں میں عجب اظہار رہتا ہے
وہاں مٹی کی صورت میں کوئی ملتا نہیں ہم کو
وہاں خود آئنہ بن کر ترا کردار رہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.