Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی ہنگامۂ جاں سے نکل کر خود سے ملنا تم (ردیف .. ے)

آسیہ اسلم آس

کبھی ہنگامۂ جاں سے نکل کر خود سے ملنا تم (ردیف .. ے)

آسیہ اسلم آس

MORE BYآسیہ اسلم آس

    کبھی ہنگامۂ جاں سے نکل کر خود سے ملنا تم

    وہاں جو شہر بستا ہے سدا بیدار رہتا ہے

    وہاں جذبے کسی عنوان کی صورت نہیں ڈھلتے

    وہاں خاموش لمحوں میں عجب اسرار رہتا ہے

    وہاں رشتے بنا لفظوں کے اپنی سانس لیتے ہیں

    وہاں پہچان کا سورج پس کہسار رہتا ہے

    عجب جادو ہے اس بستی کے سناٹے کی لوری میں

    جو اس عالم میں سو جائے وہ پھر سرشار رہتا ہے

    وہاں دستک کی حسرت ہے نہ آوازوں کا میلہ ہے

    وہاں بس خامشی کا اک عجب سنسار رہتا ہے

    وہاں سایہ نہیں ملتا کسی گزرے ہوئے پل کا

    وہاں تو اک نیا عالم پس دیوار رہتا ہے

    وہاں حرف و بیاں کے سب حوالے ٹوٹ جاتے ہیں

    وہاں خاموش آنکھوں میں عجب اظہار رہتا ہے

    وہاں مٹی کی صورت میں کوئی ملتا نہیں ہم کو

    وہاں خود آئنہ بن کر ترا کردار رہتا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے