جلاؤں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے
جلاؤں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے
چہار سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے
یہ آئنوں سے مری جنگ کا نتیجہ ہے
کہ میرا عکس ادھورا دکھائی دیتا ہے
ہمارے عشق کا موسم ہمارا ماہ تمام
ہماری آنکھ کا سپنا دکھائی دیتا ہے
یہ تیرا عکس محبت ترا خیال ہے یہ
جو میرا شعر چمکتا دکھائی دیتا ہے
اسے بتاؤ اڑانوں میں مار دیتے ہیں
الگ پرندہ جو اڑتا دکھائی دیتا ہے
اسے بتاؤ سمندر ہے عشق کی منزل
جو موج موج میں بہتا دکھائی دیتا ہے
بشرؔ یہ عشق تو جیسے کوئی کرامت ہے
مجھے تو دشت بھی دریا دکھائی دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.