آئنوں پر جمی اذیت ہے
آئنوں پر جمی اذیت ہے
دیکھنے والوں کی اذیت ہے
اس سے آگے نہیں کوئی مشکل
زندگی آخری اذیت ہے
دیکھ سکتے ہیں چھو نہیں سکتے
یہ بھی کتنی بڑی اذیت ہے
پیار پہلے بھی کر چکا ہوں میں
یہ کوئی دوسری اذیت ہے
قیس لیلیٰ ہوئے تھے جس کا شکار
تیری میری وہی اذیت ہے
سونے اور جاگنے کی بات نہیں
خواب تو دائمی اذیت ہے
اے محبت سے بھاگنے والے
یہ بڑے کام کی اذیت ہے
پہلے پہلے میں یوں ہی کہتا تھا
اور اب واقعی اذیت ہے
گھر کو جاؤں تو کس لیے جاؤں
گھر میں رکھی ہوئی اذیت ہے
یاد اک درد مستقل عاطفؔ
یہ کہاں موسمی اذیت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.