Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آئنوں پر جمی اذیت ہے

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

آئنوں پر جمی اذیت ہے

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

MORE BYﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

    آئنوں پر جمی اذیت ہے

    دیکھنے والوں کی اذیت ہے

    اس سے آگے نہیں کوئی مشکل

    زندگی آخری اذیت ہے

    دیکھ سکتے ہیں چھو نہیں سکتے

    یہ بھی کتنی بڑی اذیت ہے

    پیار پہلے بھی کر چکا ہوں میں

    یہ کوئی دوسری اذیت ہے

    قیس لیلیٰ ہوئے تھے جس کا شکار

    تیری میری وہی اذیت ہے

    سونے اور جاگنے کی بات نہیں

    خواب تو دائمی اذیت ہے

    اے محبت سے بھاگنے والے

    یہ بڑے کام کی اذیت ہے

    پہلے پہلے میں یوں ہی کہتا تھا

    اور اب واقعی اذیت ہے

    گھر کو جاؤں تو کس لیے جاؤں

    گھر میں رکھی ہوئی اذیت ہے

    یاد اک درد مستقل عاطفؔ

    یہ کہاں موسمی اذیت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے