تخیل پر کسی کے چھا رہے ہیں
تخیل پر کسی کے چھا رہے ہیں
بہاریں حسن کی دکھلا رہے ہیں
قیامت ہر قدم پر ڈھا رہے ہیں
نیا جادو جگاتے آ رہے ہیں
شباب آیا لئے کیف و مسرت
قدم ان کے بہکتے جا رہے ہیں
نگاہوں میں سرور و کیف و مستی
پیے ہیں اور پلاتے جا رہے ہیں
شباب ان کا سراپا مہر تاباں
نگاہوں کو پسینے آ رہے ہیں
نگاہیں چار ان سے کس طرح ہوں
نظر نیچی کئے وہ آ رہے ہیں
متینؔ ان سے نہیں ممکن تکلم
شباب نو پہ وہ اترا رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.