یونہی اونچا نہیں اپنا سر ہے میاں
یونہی اونچا نہیں اپنا سر ہے میاں
اپنی نان جویں پر گزر ہے میاں
جس جگہ رات ہوگی ٹھہر جائیں گے
ہم فقیروں کا بھی کوئی گھر ہے میاں
دل دھڑکنے کی آواز سنتے رہو
ماسوا جو بھی ہے شور و شر ہے میاں
چاہے مقدور بھر ہم تماشا کریں
اب جنوں میں بھی کوئی اثر ہے میاں
آنکھ جھپکی نگاہوں سے اوجھل ہوا
کب نظارہ کوئی معتبر ہے میاں
کہتے ہیں عشق اور مشک چھپتے نہیں
کن ہواؤں میں اپنی خبر ہے میاں
سب بندھے ہیں ضرورت کے رہوار سے
کون مرضی سے گرم سفر ہے میاں
اس خرابے میں کون آ کے آباد ہے
کوئی جن ہے پری ہے بشر ہے میاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.