یہ فضا قید ہے یہ زمیں قید ہے
یہ فضا قید ہے یہ زمیں قید ہے
آدمی جس جگہ ہے وہیں قید ہے
کائنات آ گئی گھر کی دہلیز پر
یہ سہولت بھی کیا دل نشیں قید ہے
میں نے پوچھا کہ کیا رہنما ہے انا
اس نے ہنس کر کہا جی نہیں قید ہے
میں اسے جیسا چاہوں وہ ویسا ہی ہو
یہ تمنا بھی دل کے تئیں قید ہے
لاکھ آگاہ ہوں خود فریبی سے ہم
زیست پھر بھی کہیں نہ کہیں قید ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.