رقص بسمل ہی نہ تھا نغمۂ زنجیر بھی تھا
رقص بسمل ہی نہ تھا نغمۂ زنجیر بھی تھا
اب کے زنداں میں علاج غم تعبیر بھی تھا
رائیگاں خون شہیداں نہ گیا مقتل میں
مرگ انبوہ سے اک جشن ہمہ گیر بھی تھا
یونہی ٹوٹا نہیں بے رحم چٹانوں کا غرور
دست فرہاد میں اک تیشۂ تدبیر بھی تھا
تو نہیں ہے تو کوئی شمع نہیں ہے روشن
اب کھلا حسن ترا خالق تنویر بھی تھا
عشق خوددار نے ہونٹوں پہ لگا دیں مہریں
ورنہ ہر آہ میں اک شعلۂ تاثیر بھی تھا
جام کیوں توڑ دیا اے شب غم کے ساتھی
کچھ تو یہ زہر ہمارے لیے اکسیر بھی تھا
اب کوئی بات نہیں وقت کی انگڑائی میں
وہ کماں ٹوٹ گئی جس میں کوئی تیر بھی تھا
چین پایا نہ کسی دور کے شاعر نے قتیلؔ
مضطرب میرؔ بھی تھا غالبؔ دلگیر بھی تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.