Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں

نعیم نجمی

بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں

نعیم نجمی

MORE BYنعیم نجمی

    بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں

    ہم یہاں جھوٹے قصیدوں سے نہیں آئے ہیں

    ہم پہ لازم تھا چراغوں کی حفاظت کرنا

    صلح کرنے کو ہواؤں سے نہیں آئے ہیں

    جلتے بجھتے ہوئے جگنو ہیں ہمارے اندر

    روشنی لے کے چراغوں سے نہیں آئے ہیں

    جوتیاں کی ہیں سدا اہل ادب کی سیدھی

    ہم سبق پڑھ کے کتابوں سے نہیں آئے ہیں

    صرف افکار کی خوشبو ہمیں لائی ہے یہاں

    تیری محفل میں حوالوں سے نہیں آئے ہیں

    اپنی پہچان بنائی ہے جہاں میں ہم نے

    اٹھ کے اجداد کی قبروں سے نہیں آئے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے