بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں
بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں
ہم یہاں جھوٹے قصیدوں سے نہیں آئے ہیں
ہم پہ لازم تھا چراغوں کی حفاظت کرنا
صلح کرنے کو ہواؤں سے نہیں آئے ہیں
جلتے بجھتے ہوئے جگنو ہیں ہمارے اندر
روشنی لے کے چراغوں سے نہیں آئے ہیں
جوتیاں کی ہیں سدا اہل ادب کی سیدھی
ہم سبق پڑھ کے کتابوں سے نہیں آئے ہیں
صرف افکار کی خوشبو ہمیں لائی ہے یہاں
تیری محفل میں حوالوں سے نہیں آئے ہیں
اپنی پہچان بنائی ہے جہاں میں ہم نے
اٹھ کے اجداد کی قبروں سے نہیں آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.