تیری صورت سے عیاں ہے آب و تاب آفتاب
تیری صورت سے عیاں ہے آب و تاب آفتاب
دیکھ لے جس نے نہ دیکھا ہو جواب آفتاب
صبح دم ہوتا ہے دیکھو شاہ خاور خیمہ زن
کھنچ گئی ہے سطح گردوں پر طناب آفتاب
سمت مغرب ہاتھ میں نیزے شعاعوں کے لیے
کس سے لڑنے کو چلا افراسیاب آفتاب
کچھ عجب حیرت فزا ہے لالہ زار آسماں
یہ شفق پھولی ہوئی ہے یا گلاب آفتاب
جو کہ ہیں فیاض فیض ان کا ہے وقف خاص و عام
دیکھ لو ہر ایک عالم فیض یاب آفتاب
ہو گیا کی سرزمیں کیوں کر نہ رشک آسماں
ہے یہاں اک اک حسیں بسملؔ جواب آفتاب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.