یہ جو اک دشت سا آنکھوں میں بسا رکھا ہے
یہ جو اک دشت سا آنکھوں میں بسا رکھا ہے
ہم نے دنیا سے اسے خوب چھپا رکھا ہے
تیری یادوں کی مہک کم نہیں ہونے پاتی
دل کے گوشے میں اک اک زخم سجا رکھا ہے
ہم نے ہر موڑ پہ توقیر جنوں کی خاطر
اپنی ہستی کو تماشائی بنا رکھا ہے
کوئی دستک کوئی آہٹ نہ کوئی حرف نوید
کس بھروسے پہ یہ دروازہ کھلا رکھا ہے
جس کی خوشبو سے مہکتے ہیں مرے شام و سحر
میں نے اس یاد کو سجدوں میں بسا رکھا ہے
دیکھنا وہ بھی کسی روز پکارے گا قیسؔ
خون دل دے کے جسے ہم نے ہرا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.