تمنا روز جینے کے نئے پیغام لاتی ہے
تمنا روز جینے کے نئے پیغام لاتی ہے
ہزاروں بار تن میں جان آتی اور جاتی ہے
تمہیں فرصت نہیں تم دیکھ بھی سکتے نہیں مجھ کو
جو تم دنیا سے چھٹتے ہو تو تم کو نیند آتی ہے
میں اکثر ایسی کشتی کو یہاں حسرت سے تکتا ہوں
کہ جو موجوں میں بہتی ہے بھنور میں ڈوب جاتی ہے
ادھر اظہار کی جرأت نہ ہونا اک مصیبت ہے
ادھر دل کی خلش تم سامنے ہو جان کھاتی ہے
سحر ہوتی ہے اور ایمان میرا تازہ ہوتا ہے
صبا اس کی ثنا کے دل نشیں نغمے سناتی ہے
سہیلؔ ایسی بلا کی سادگی ہے حسن والوں میں
محبت کرنے والوں کو جو دیوانہ بناتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.