مژدۂ منزل شب آبلہ پا تک پہنچے
مژدۂ منزل شب آبلہ پا تک پہنچے
بات دل کی جو خم زلف رسا تک پہنچے
ذرا زنداں بھی چلا آئے برائے مجنوں
یہ دریچہ بھی کبھی موج صبا تک پہنچے
پھر تو انجام محبت کا خدا ہی جانے
میری گستاخی اگر چشم حیا تک پہنچے
مری آہوں کی نہایت ترے ایجاب و قبول
لب کی جنبش مرے اس دل کی صدا تک پہنچے
رات بھر جاگے ستارے تری غمازی میں
یہ تنک ظرفی مہ ناصیہ سا تک پہنچے
اب کیا امید کریں ساز طرب ناک سے ہم
غم کے پیغام دل نغمہ سرا تک پہنچے
آسمانوں کی طرف دیکھتی ہے پیاسی زمیں
یہ قیامت ترے گیسو کی گھٹا تک پہنچے
لب مہتاب نے جنبش تو ذرا کی بھی نہیں
گوش انجم سخن بے سر و پا تک پہنچے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.