کوتاہ قد ہیں ہم تو کوئی سر کشیدہ ہو
کوتاہ قد ہیں ہم تو کوئی سر کشیدہ ہو
آوازہ ہو کچھ ایسا کہ ہر کس شنیدہ ہو
وہ التفات خاص پہ مائل ہوا تو کیا
پھیلائے کیا وہ شخص جو دامن دریدہ ہو
اس وقت تک تو شاخ میں رہنا ہی چاہیے
جب تک کہ کوئی غنچۂ گل نو دمیدہ ہو
کیسی یہ شاخ ہے کہ ثمر سے جھکی نہیں
ہر شخص دل میں کہتا ہے پیاری خمیدہ ہو
جی چاہتا ہے کھل کے کسی کی ثنا کریں
لیکن یہ سوچتے ہیں کہ کس کا قصیدہ ہو
عارفؔ تمام عمر رہی دل میں آرزو
جو لکھوں چھپ سکے کوئی ایسا جریدہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.