ہمارے صبر کا پھل جب ملے گا
ہمارے صبر کا پھل جب ملے گا
سکون اس دل کو جاکر تب ملے گا
ابھی میں ہوں تو مجھ میں ڈوب جاؤ
نہ جانے پھر یہ موقع کب ملے گا
میں راہ معرفت پر چل رہا ہوں
اسی رستے پہ مجھ کو رب ملے گا
مرا حجرہ ہی میری کہکشاں ہے
یہیں وہ ماہ رو ہر شب ملے گا
تمنا کو سکوں ہوگا میسر
جب ان کے لب سے جاکر لب ملے گا
اسی کی آرزو میں کو بہ کو ہیں
کسی دن تو کسی کو شب ملے گا
کھلے گی آپ کی فطرت بھی قبلہ
کبھی جو آپ کو منصب ملے گا
یہ آنسو رکھ لیے ہیں اس کی خاطر
ملے گا جب بھی تشنہ لب ملے گا
کسی محفل کسی دنیا میں جاؤ
ہر اک جا عشق کا کرتب ملے گا
یہی دستور ہے دنیا کا قیصرؔ
وفا کو چھوڑ باقی سب ملے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.