Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بام خورشید سے راتوں کو صدا دی جائے

عبد الحفیظ نعیمی

بام خورشید سے راتوں کو صدا دی جائے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    بام خورشید سے راتوں کو صدا دی جائے

    اور ہر روشنی اس گھر کی بجھا دی جائے

    کب سے بے ہوش پڑی ہے مرے قدموں میں حیات

    تو کہے تو تری زلفوں کی ہوا دی جائے

    چاند بھی لیجئے ویران سا صحرا نکلا

    اب تمہیں چاند سے تشبیہ بھی کیا دی جائے

    شکریہ مشورۂ ترک تعلق کا مگر

    ریت کی تو نہیں دیوار کہ ڈھا دی جائے

    وہ کہانی جو بسی ہے مری سانسوں میں ابھی

    دل میں ہے آج انہیں پھر سے سنا دی جائے

    ان کے یکتائی کے دعوے کی یہ واضح تردید

    آئنے کو کوئی معقول سزا دی جائے

    بخش کے قطرۂ شبنم یہ تقاضا کیا خوب

    چاہتے ہیں کہ سمندر کو دعا دی جائے

    آج کچھ پھول تبسم کے ہمیں مل ہی گئے

    لاؤ محراب ہی خوابوں کی سجا دی جائے

    آج ویراں کدۂ دل سے کوئی گزرے گا

    اک بساط گل و انجم ہی بچھا دی جائے

    صبح ہوگی پس دیوار خموشی شاید

    یہ فصیل شب لب‌ بستگی ڈھا دی جائے

    پئے تعظیم جنوں اٹھتے ہیں پتھر اب تک

    اب یہ توقیر جنوں کچھ تو گھٹا دی جائے

    آج لب پر مرے اک راز کی بات آئی ہے

    میری پرچھائیں ذرا دور ہٹا دی جائے

    سائے پھاند آتے ہیں راتوں کو نعیمیؔ اب بھی

    اور زندانوں کی دیوار اٹھا دی جائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے