بام خورشید سے راتوں کو صدا دی جائے
بام خورشید سے راتوں کو صدا دی جائے
اور ہر روشنی اس گھر کی بجھا دی جائے
کب سے بے ہوش پڑی ہے مرے قدموں میں حیات
تو کہے تو تری زلفوں کی ہوا دی جائے
چاند بھی لیجئے ویران سا صحرا نکلا
اب تمہیں چاند سے تشبیہ بھی کیا دی جائے
شکریہ مشورۂ ترک تعلق کا مگر
ریت کی تو نہیں دیوار کہ ڈھا دی جائے
وہ کہانی جو بسی ہے مری سانسوں میں ابھی
دل میں ہے آج انہیں پھر سے سنا دی جائے
ان کے یکتائی کے دعوے کی یہ واضح تردید
آئنے کو کوئی معقول سزا دی جائے
بخش کے قطرۂ شبنم یہ تقاضا کیا خوب
چاہتے ہیں کہ سمندر کو دعا دی جائے
آج کچھ پھول تبسم کے ہمیں مل ہی گئے
لاؤ محراب ہی خوابوں کی سجا دی جائے
آج ویراں کدۂ دل سے کوئی گزرے گا
اک بساط گل و انجم ہی بچھا دی جائے
صبح ہوگی پس دیوار خموشی شاید
یہ فصیل شب لب بستگی ڈھا دی جائے
پئے تعظیم جنوں اٹھتے ہیں پتھر اب تک
اب یہ توقیر جنوں کچھ تو گھٹا دی جائے
آج لب پر مرے اک راز کی بات آئی ہے
میری پرچھائیں ذرا دور ہٹا دی جائے
سائے پھاند آتے ہیں راتوں کو نعیمیؔ اب بھی
اور زندانوں کی دیوار اٹھا دی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.