Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ کے سوکھے ہوئے دریا کو پانی چاہیے

ابوذر فاطمی

آنکھ کے سوکھے ہوئے دریا کو پانی چاہیے

ابوذر فاطمی

MORE BYابوذر فاطمی

    آنکھ کے سوکھے ہوئے دریا کو پانی چاہیے

    یعنی اس کو ہر نفس آہ و فغانی چاہیے

    بات کیجے کچھ تو کہیے چھو ہی لیجے پیار سے

    آپ کے ہونے کی دل کو بس نشانی چاہیے

    خواہشوں کا اک سمندر اپنی طغیانی پہ ہے

    روکنے کو اب مدد بھی آسمانی چاہیے

    ہائے اس پہلو سے لگ کر صبح دم اٹھا کروں

    زندگی مجھ کو فقط اتنی سہانی چاہیے

    چاہتا ہوں دل یہ ٹوٹے بارہا ٹوٹے مگر

    میرے دل کو اک محبت جاودانی چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے