ان کی نظر کے وار نے شاعر بنا دیا
ان کی نظر کے وار نے شاعر بنا دیا
ہم کو نگاہ یار نے شاعر بنا دیا
جس راہ پر بچھڑ گئے دل کے مکیں سے ہم
اس راہ یادگار نے شاعر بنا دیا
جس چشم سے رقیب نے آنسو بہا دیے
اس چشم اشک بار نے شاعر بنا دیا
قصے ہمارے یار کے مشہور ہو گئے
ہم کو ہمارے یار نے شاعر بنا دیا
پہلے تھا غم جدائی کا جو ختم وہ ہوا
پھر فکر روزگار نے شاعر بنا دیا
برسوں کے انتظار کا کچھ تو صلہ ملا
برسوں کے انتظار نے شاعر بنا دیا
الفت کا کاروبار تو مشکل تھا ارسلانؔ
دنیا کے کاروبار نے شاعر بنا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.