Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہے پاس وفا آنکھ بھگو بھی نہیں سکتے

مضطر حیدری

ہے پاس وفا آنکھ بھگو بھی نہیں سکتے

مضطر حیدری

MORE BYمضطر حیدری

    ہے پاس وفا آنکھ بھگو بھی نہیں سکتے

    مجبور ہم ایسے ہیں کہ رو بھی نہیں سکتے

    کچھ اور مسافر بھی ہیں ہمراہ ہمارے

    ہم اپنے سفینے کو ڈبو بھی نہیں سکتے

    ہیں صبح کے شانے پہ ابھی رات کی زلفیں

    ہم جاگ بھی سکتے نہیں سو بھی نہیں سکتے

    قابو میں نہیں چشم گہر بار ہماری

    موتی ہیں رواں اور پرو بھی نہیں سکتے

    کیا کوزے میں دریا کو سموئیں گے وہ مضطرؔ

    جو کوزے کو دریا میں ڈبو بھی نہیں سکتے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے