فضول کرتے ہو جینا محال شاعر کا
فضول کرتے ہو جینا محال شاعر کا
وہ جی رہا ہے یہی ہے کمال شاعر کا
جھجک رہا ہے وہ پہلو میں اس طرح آتے
کہ جیسے سہما ہوا اک خیال شاعر کا
سنبھالتا ہے وہ جس طرح آگ لفظوں کی
سنبھال تم نہیں سکتے وبال شاعر کا
یہ تتلیوں کے پروں سے تراشنا مصرعے
لہو کو رنگ بنانا کمال شاعر کا
کسے خبر ہے ترے کاغذی گلستاں کو
جلا کے راکھ نہ کر دے جلال شاعر کا
یہ آنسوؤں کی امانت ہے لفظ کا پردہ
اسی سے بنتا ہے سارا ملال شاعر کا
ذرا سا صبر کرو میں اٹھا کے لاتا ہوں
تمہارے روبرو چہرہ نڈھال شاعر کا
اداسیوں میں وہ خوشیوں کی آنچ رکھتا ہے
اسی تپش سے سنورتا ہے حال شاعر کا
وہ اپنے درد کو لکھتا ہے اک دوا کی طرح
تو اپنی مرضی سے مصرع اچھال شاعر کا
ذرا سا حسن نظر سے تو دیکھ لو احسانؔ
تمہارے خواب بنے گا کمال شاعر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.