دل کے زخموں کو جو چھیڑا تو ہنسا عید کا چاند
دل کے زخموں کو جو چھیڑا تو ہنسا عید کا چاند
میرے حالات پہ جیسے ہو خفا عید کا چاند
رات تنہائی میں یادوں نے ستایا پھر سے
میرے آنسو میں کہیں ڈوب گیا عید کا چاند
اس کی آنکھوں کی چمک آج بھی یاد آتی ہے
جیسے پلکوں پہ ٹھہر کر ہو رہا عید کا چاند
میں نے چاہا کہ بھلا دوں اسے اس عید کے دن
دل کے آنگن میں مگر پھر سے اگا عید کا چاند
کوئی امید کا جگنو بھی نہیں ساتھ مرے
میرے حصے میں فقط درد بنا عید کا چاند
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.