آنسو شب غم میں جو ہمارے نکل آئے
آنسو شب غم میں جو ہمارے نکل آئے
گردوں پہ محبت کے ستارے نکل آئے
اے وائے کہ جب ناؤ مری ڈوب رہی تھی
گرداب محبت میں کنارے نکل آئے
اے مالک کونین مجھے یہ تو بتا دے
کیوں غم میں بھی جینے کے سہارے نکل آئے
سجدے میں وہاں اب بھی فرشتوں کی جبیں ہے
جس راہ سے ہم عشق کے مارے نکل آئے
احساس ندامت کا ہوا تھا مرے دل کو
آنسو تری رحمت کے سنوارے نکل آئے
پنہاں تھا مری عقل کے پردے میں جنوں بھی
میرے ہی نشیمن میں شرارے نکل آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.