aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

عالم تاب تشنہ

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

عالم تاب تشنہ

MORE BYعالم تاب تشنہ

    اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

    دیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا

    گزرا ہوا لمحہ تھا کہ بہتا ہوا دریا

    پھر میری طرف اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا

    اک دشت ملا کوچۂ جاناں سے نکل کر

    ہم نے تو کبھی عشق کو بے گھر نہیں دیکھا

    تھے سنگ تو بیتاب بہت نقش گری کو

    ہم نے ہی انہیں آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا

    اک عمر سے ہے جو مری وحشت کا ٹھکانہ

    خوشیوں کی طرح تو نے بھی وہ گھر نہیں دیکھا

    نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی

    اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

    خواہش کو یہاں حسب ضرورت نہیں پایا

    حاصل کو یہاں حسب مقدر نہیں دیکھا

    ہر حال میں دیکھا ہے اسے ضبط کا پیکر

    تشنہؔ کو کبھی ظرف سے باہر نہیں دیکھا

    مأخذ:

    funoon-volume-21 (Pg. 343)

      • اشاعت: 1984
      • سن اشاعت: 1984

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے