Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

فرید پربتی

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

فرید پربتی

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارا کر رہا ہوں میں

شکست آرزو عرض تمنا شوق لا حاصل

تری خاطر تو یہ سب کچھ گوارا کر رہا ہوں میں

قفس میں جی بہلنے کے لیے وہ پھول رکھ آئے

ہجوم یاس میں جن پر گزارا کر رہا ہوں میں

غرض اس چیز سے مجھ کو نہیں میری نہ جو ہوگی

یہ باعث ہے کہ دنیا سے کنارا کر رہا ہوں میں

میں کھل کر کہہ نہیں سکتا نیاز عشق کی باتیں

فقط ان کی طرف بس اک اشارا کر رہا ہوں میں

مرے سر پر ہے باقی ایک سایہ میرے ماضی کا

سنبھل کر عصر حاضر کا نظارا کر رہا ہوں میں

فریدؔ اک دن سہارے زندگی کے ٹوٹ جائیں گے

سبب یہ ہے کہ خود کو بے سہارا کر رہا ہوں میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے