Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

سیداحتشام حسین

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

سیداحتشام حسین

کچھ مرے شوق نے در پردہ کہا ہو جیسے

آج تم اور ہی تصویر حیا ہو جیسے

یوں گزرتا ہے تری یاد کی وادی میں خیال

خارزاروں میں کوئی برہنہ پا ہو جیسے

ساز نفرت کے ترانوں سے بہلتے نہیں کیوں

یہ بھی کچھ اہل محبت کی خطا ہو جیسے

وقت کے شور میں یوں چیخ رہے ہیں لمحے

بہتے پانی میں کوئی ڈوب رہا ہو جیسے

کیسی گل رنگ ہے مشرق کا افق دیکھ ندیم

ندی کا خوں رات کی چوکھٹ پہ بہا ہو جیسے

یا مجھے وہم ہے سنتا نہیں کوئی میری

یا یہ دنیا ہی کوئی کوہ ندا ہو جیسے

بحر ظلمات جنوں میں بھی نکل آئی ہے راہ

عشق کے ہاتھ میں موسیٰ کا عصا ہو جیسے

دل نے چپکے سے کہا کوشش ناکام کے بعد

زہر ہی درد محبت کی دوا ہو جیسے

دیکھیں بچ جاتی ہے یا ڈوبتی ہے کشتئ شوق

ساحل فکر پہ اک حشر بپا ہو جیسے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے