Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات

رضا عظیم آبادی

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات

رضا عظیم آبادی

ہم مر گئے پہ شکوے کی منہ پر نہ آئی بات

کیوں بے زبان عاشقوں کی آزمائی بات

دعوئ عشق کرنے کا کیا منہ کسی کا تھا

کم بولنے نے تیرے یہ ساری بڑھائی بات

ہم پیشگی کی مجھ سے کرے گفتگو رقیب

منہ اس کا دیکھو ہے یہ تمہاری سکھائی بات

سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کے

ملتا ہے جس سے یار نہ ایسی پڑھائی بات

اپنا کسے کہوں نہ کہوں کس کو ہے غضب

جس وقت منہ سے نکلی ہوئی پھر پرائی بات

کیا غیر نے کہا کہ لگے بدبدانے تم

میں نے بھی چھیڑنے کی نئی اب تو پائی بات

مذکورہ کل کا جانے دو ہو جاؤ گے خفا

تھمتی نہیں زبان پہ جس وقت آئی بات

مجنوں کے نام سے مرا حال اس نے تب سنا

شکر خدا کہ خوب بن آئی بنائی بات

بلبل کا نالہ آگے مرے اس طرح سے ہے

جس طرح شہریوں سے کرے روستائی بات

تقریر صاف پر جو رضاؔ کی کرے نظر

اندھے کے تئیں عجب نہیں دیوے دکھائی بات

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے