Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ سے آنسو ٹپکا ہوگا

ساحل احمد

آنکھ سے آنسو ٹپکا ہوگا

ساحل احمد

آنکھ سے آنسو ٹپکا ہوگا

صبح کا تارا ٹوٹا ہوگا

پھیل گئی ہے نور کی چادر

رخ سے آنچل سرکا ہوگا

پھیل گئے ہیں رات کے سائے

آنکھ سے کاجل ڈھلکا ہوگا

بکھری پتی دیکھ کے گل کی

کلیوں نے کیا کیا سوچا ہوگا

دیکھ مسافر بھوت نہیں ہے

راہ کا پتہ کھڑکا ہوگا

عارض گل پہ دیکھ کے شبنم

کلیوں نے منہ دھویا ہوگا

چپ چپ رہنا ٹھیک نہیں ہے

بات بڑھے گی چرچا ہوگا

گھوم رہے ہیں شہروں شہروں

کوئی تو آخر تم سا ہوگا

آج کنواں بھی چیخ اٹھا ہے

کسی نے پتھر مارا ہوگا

پھیل گئی ہے پیار کی خوشبو

کوئی پتنگا جلتا ہوگا

مجھ سے ناطہ توڑ کے ساحل

وہ بھی اب پچھتاتا ہوگا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے