- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
راہی معصوم رضا
مضمون 1
اشعار 5
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں
ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی
خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو
اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 40
نظم 17
کتاب 16
تصویری شاعری 9
ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند جن آنکھوں میں کاجل بن کر تیری کالی رات ان آنکھوں میں آنسو کا اک قطرہ ہوگا چاند رات نے ایسا پینچ لگایا ٹوٹی ہاتھ سے ڈور آنگن والے نیم میں جا کر اٹکا ہوگا چاند چاند بنا ہر دن یوں بیتا جیسے یگ بیتے میرے بنا کس حال میں ہوگا کیسا ہوگا چاند
ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ یادوں سے بچنا مشکل ہے ان کو کیسے سمجھائیں ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ پھر صحرا سے ڈر لگتا ہے پھر شہروں کی یاد آئی پھر شاید آنے والے ہیں زنجیریں پہنانے لوگ ہم تو دل کی ویرانی بھی دکھلاتے شرماتے ہیں ہم کو دکھلانے آتے ہیں ذہنوں کے ویرانے لوگ اس محفل میں پیاس کی عزت کرنے والا ہوگا کون جس محفل میں توڑ رہے ہوں آنکھوں سے پیمانے لوگ
آؤ واپس چلیں رات کے راستے پر وہاں نیند کی بستیاں تھیں جہاں خاک چھانیں کوئی خواب ڈھونڈیں کہ سورج کے رستے کا رخت_سفر خواب ہے اور اس دن کے بازار میں کل تلک خواب کمیاب تھا آج نایاب ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
