- کتاب فہرست 180885
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1996
ڈرامہ924 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1664 صحت108 تاریخ3355طنز و مزاح604 صحافت202 زبان و ادب1140
خطوط725 طرز زندگی30 طب980 تحریکات270 ناول4283 سیاسی349 مذہبیات4794 تحقیق و تنقید6716افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب442 ترجمہ4198-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1253
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1273
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی735
- مسدس44
- نعت592
- نظم1216
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام35
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
قدرت اللہ شہاب کے افسانے
ماں جی
یہ کہانی ایک ایسے فرد کی ہے، جو اپنی ماں کی موت کے بعد اس کی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ سادگی پسند اور خوبصورتی کی مورت اس کی ماں، جس نے کبھی کوئی شوق نہیں کیا، کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنی اور نہ ہی کسی کو دکھ دیا۔ خرچ کے لیے روپے مانگے تو بس گیارہ پیسے۔ وہ بھی مسجد کے چراغ میں تیل ڈلوانے کے لیے۔ ایک دن وہ اچانک یوں ہی چلی گئی۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
اور عائشہ آ گئی
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو تقسیم کے وقت بمبئی سے کراچی ہجرت کر جاتا ہے۔ وہاں وہ بطور روزگار کئی کام کرتا ہے، لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی۔ پھر کچھ لوگ اسے دلالی کرنے کے لیے کہتے ہیں، لیکن اپنی دیندار بیٹی کے لیے وہ اس کام سےانکار کر دیتا ہے۔ بیٹی کی شادی کرنے کے لیے وہ انھیں کاموں میں پوری طرح سے لگ جاتا ہے اور بہت امیر ہو جاتا ہے۔ شادی کے ایک عرصے بعد جب اس کی بیٹی اس سے ملنے آنے والی ہوتی ہے تو وہ ان سب کاموں سے توبہ کر لیتا ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1996
-
