- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
قدرت اللہ شہاب کے افسانے
ماں جی
یہ کہانی ایک ایسے فرد کی ہے، جو اپنی ماں کی موت کے بعد اس کی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ سادگی پسند اور خوبصورتی کی مورت اس کی ماں، جس نے کبھی کوئی شوق نہیں کیا، کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنی اور نہ ہی کسی کو دکھ دیا۔ خرچ کے لیے روپے مانگے تو بس گیارہ پیسے۔ وہ بھی مسجد کے چراغ میں تیل ڈلوانے کے لیے۔ ایک دن وہ اچانک یوں ہی چلی گئی۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
اور عائشہ آ گئی
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو تقسیم کے وقت بمبئی سے کراچی ہجرت کر جاتا ہے۔ وہاں وہ بطور روزگار کئی کام کرتا ہے، لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی۔ پھر کچھ لوگ اسے دلالی کرنے کے لیے کہتے ہیں، لیکن اپنی دیندار بیٹی کے لیے وہ اس کام سےانکار کر دیتا ہے۔ بیٹی کی شادی کرنے کے لیے وہ انھیں کاموں میں پوری طرح سے لگ جاتا ہے اور بہت امیر ہو جاتا ہے۔ شادی کے ایک عرصے بعد جب اس کی بیٹی اس سے ملنے آنے والی ہوتی ہے تو وہ ان سب کاموں سے توبہ کر لیتا ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
