- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
محمد مجیب کے افسانے
اندھیرا
ایسے دو لوگوں کی کہانی جو دن بھر شہر میں کام کرنے کے بعد شام ڈھلے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے جیسے جیسے اندھیرا بڑھتا جاتا ہے ان میں سے ایک کو ڈر لگنے لگتا ہے۔ ڈر سے بچنے کے لیے وہ اپنے ساتھی سے بات چیت شروع کرتا ہے اور اس کا ساتھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ڈر سے جڑی ہوتی ہے۔
باغی
’’یہ کہانی ایک ریلوے اسٹیشن، اس کےاسٹیشن ماسٹر اور ٹکٹ بابو کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کا ماننا ہے کہ پورے ہندوستان میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ بہت کم لوگ ہی اس رشتہ کو دیکھ پاتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس رشتہ سے انکار کرتے ہیں وہ باغی ہیں۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق ان رشتوں کو جوڑے رکھنے میں آم کے باغ اہم رول نبھاتے ہیں۔ اگر کہیں آم کے باغ نہیں ہیں تو وہ علاقہ اور وہاں کے لوگ سرے سے ہندوستانی ہی نہیں ہے۔ کسی بھی شخص کو ہندستانی ہونے کے لیے یہاں کی تہذیب میں آم کے باغ کی اہمیت کو سمجھنا ہی ہوگا۔‘‘
خاں صاحب
’’کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جو بہت دین دار ہے۔ مگر اتنا کنجوس ہے کہ اس کی بیوی بیٹی بہت مفلسی میں گزارا کرتی ہیں۔ اس کی بیوی بیٹی کو اچھی پرورش کے لیے ایک عورت کے پاس چھوڑ دیتی ہے، تو بدلے میں وہ اس عورت سے پیسے بھی مانگتا ہے۔ عورت پیسے تو نہیں دیتی، ہاں ایک پڑھے لکھے لڑکے سے اس کا رشتہ طے کر دیتی ہے۔ مگر کم مہر اور نقد نہ ملنے کی وجہ سے وہ دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی ایک امیر اور ادھیڑ عمر کے شخص سے کرا دیتا ہے۔‘‘
کیمیا گر
یہ ترکی سے ہندوستان میں آ بسے ایک حکیم کی کہانی ہے، جو اپنے پورے خلوص اور اچھے اخلاق کے باوجود بھی یہاں کہ مٹی میں گھل مل نہیں پاتا۔ گاؤں کی ہندو آبادی اس کا پورا احترام کرتی ہے، مگر وہ انہیں کبھی اپنا محسوس نہیں کر پاتا ہے۔ پھر گاؤں میں ہیضہ پھیل جاتا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو لیکر گاؤں چھوڑ دیتا ہے۔ رات میں اسے سپنے میں کیمیا گر دکھائی دیتا ہے، جس کے ساتھ کی گفتگو اس کے پورے نظریے کو بدل دیتی ہے اور وہ واپس گاؤں لوٹ کر لوگوں کے علاج میں لگ جاتا ہے۔
نیا مکان
’’کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو بیوی بچوں کی موت کے بعد دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور محض عبادت گزاری کے لیے نیا مکان بنوانا شروع کر دیتا ہے۔ مکان کی تعمیر کو دیکھنے کے لیے وہ ہر روز وہاں جاتا ہے۔ ایک دن اسے وہاں ایک نوجوان عورت مزدور دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کی مسکراہٹ پر فدا ہو جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے ساتھ شادی کرنے اور نئے مکان میں بس جانے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔ مگر ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ایک دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
