- کتاب فہرست 180801
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ919 تعلیم343 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1588 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6592افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب449 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
جمیل جالبی کی بچوں کی کہانیاں
دو دوست دو دشمن
گھنے جنگل میں ایک دلدل کے قریب برسوں سے ایک چوہا اور ایک مینڈک رہتے تھے۔ بات چیت کے دوران ایک دن مینڈک نے چوہے سے کہا ’’اس دلدل میں میرا خاندان صدیوں سے آباد ہے اور اسی لیے یہ دلدل جو مجھے باپ دادا سے ملی ہے، میری میراث ہے۔‘‘ چوہا اس بات پر چڑ گیا۔
دو چوہے
دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا، اس لیے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ ایک دن جو ملاقات ہوئی
نادان بکری
اتفاق سے ایک لومڑی ایک کنویں میں گر پڑی۔ اس نے بہت ہاتھ پیر مارے اور باہر نکلنے کی ہر طرح کوشش کی، لیکن کامیاب نہیں ہوئی۔ ابھی وہ کوشش کر ہی رہی تھی کہ اتنے میں ایک بکری پانی پینے کے لیے وہاں آ نکلی۔ بکری نے لومڑی سے پوچھا، ’’اے بہن! یہ بتاؤ کہ پانی
ناشکرا ہرن
یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب بندوق ایجاد نہیں ہوئی تھی اور لوگ تیر کمان سے شکار کھیلتے تھے۔ ایک دن کچھ شکاری شکار کی تلاش میں جنگل میں پھر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک ہرن پر پڑی۔ وہ سب اس کے پیچھے ہو لیے۔ شکاری ہرن کو چاروں طرف سے گھیر رہے تھے اور
قصہ ایک بھیڑیے کا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چاندنی رات میں ایک دبلے پتلے، سوکھے مارے بھوکے بھیڑیے کی ایک خوب کھائے پیئے، موٹے تازے کتّے سے ملاقات ہوئی۔ دعا سلام کے بعد بھیڑیے نے اس سے پوچھا، ’’اے دوست! تُو تو خوب تر و تازہ دکھائی دیتا ہے۔ سچ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ سے زیادہ
نادانی کی سزا
گرمی میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ چلچلاتی دھوپ میں، تپتی ہوئی زمین پر چلنے سے وہ جلد ہی تھک گیا اور ایک بڑے سے سایہ دار گھنے درخت کے نیچے آرام کرنے لیٹ گیا۔ ابھی وہ سویا ہی تھا کہ کچھ چوہے اپنے بلوں سے باہر نکلے اور نادانی سے اس کی پیٹھ پر اچھلنے کودنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
