اردو ادب کی تاریخ میں ولی دکنی کی تاریخِ وفات ایک طویل عرصے تک معمہ بنی رہی ہے۔ عام طور پر ان کی پیدائش ۱۶۶۵ یا ۱۶۶۷ کے لگ بھگ اور انتقال ۱۷۰۷ یا ۱۷۰۸ میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم، بعض مؤرخین اور تذکرہ نگاروں نے ان کے انتقال کی تاریخیں ۱۷۲۰، ۱۷۲۵ اور حتیٰ کہ ۱۷۳۵ تک تجویز کی ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کے نزدیک، ولی کی تاریخِ وفات کا یہ اختلاف محض تحقیق کی کمی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ادبی تاریخ سے زیادہ 'ادبی سیاست' سے ہے۔
دہلی کے تذکرہ نگاروں اور ان کے زیرِ اثر رہنے والے اردو ادب کے بیشتر مؤرخین کے لیے یہ بات نہایت اہم تھی کہ ولی کی وفات کی تاریخ ۱۷۰۰ء کے بہت بعد کی ثابت کی جائے۔ اس اصرار کی بنیادی وجہ وہ مشہورِ زمانہ افسانہ ہے جس کے مطابق شاہ گلشن نے دہلی میں ولی کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ فارسی شعرا کا طرز اور ان کے مضامین اپنی اردو (ریختہ) شاعری میں اختیار کریں۔ دہلی والوں کی انا کا تقاضا تھا کہ اس مبینہ مشورے کے بعد ولی ایک طویل عرصے تک زندہ رہیں، تاکہ ان کی شاعری پر اس 'دہلوی/فارسی مشورے' کا احسان ثابت کیا جا سکے۔
اگر ولی اس مشورے کے فوراً بعد انتقال کر گئے ہوں، تو ظاہر ہے کہ انہیں اس نام نہاد نصیحت سے فائدہ اٹھانے کا کوئی وقت ہی نہیں ملا ہوگا۔ اور اگر ایسا ہے، تو ولی کی عظیم الشان شاعری کسی دہلوی بزرگ کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ ان کی اپنی طبعِ زاد اور دکنی روایت کی دین ہے۔ اسی لیے دہلی کے مؤرخین نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ولی کی عمر کو طویل کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کے کمالات کو دہلی کی عطا ثابت کیا جا سکے۔
تاریخی حقائق اس ادبی سیاست کی نفی کرتے ہیں۔ ظہیر الدین مدنی نے ایک فارسی قطعۂ تاریخ کی بنیاد پر ولی کا سالِ وفات ۱۱۱۹ ہجری (مطابق ۱۷۰۷ء) نکالا ہے۔ مزید برآں، دیوانِ ولی کا قدیم ترین معلوم نسخہ، جو خدا بخش لائبریری پٹنہ میں محفوظ ہے، ۲۶ ربیع الاول ۱۱۲۰ ہجری (۱۵ جولائی ۱۷۰۸ء) کا مکتوبہ ہے۔ اس مخطوطے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں ولی کا وہ تمام کلام موجود ہے جو ان سے منسوب ہے۔ یعنی اس تاریخ کے بعد ولی کا کوئی نیا کلام سامنے نہیں آیا۔
یہ ناقابلِ تردید ثبوت اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس مخطوطے کی تکمیل کے وقت یا تو ولی کا انتقال ہو چکا تھا، یا ان کی زندگی کے دن گنے جا چکے تھے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اگر ولی ۱۷۲۰ یا اس کے بعد تک زندہ رہے، تو ۱۷۰۸ کے بعد ان کا کوئی کلام کسی مخطوطے میں کیوں درج نہیں ہوا؟ لہٰذا، یہ حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ولی کا انتقال ۱۷۰۷ یا ۱۷۰۸ میں ہی ہوا، اور ان کی شاعری پر شاہ گلشن کے مبینہ مشورے کا کوئی سایہ نہیں ہے۔
